قدرت کی مہربانی

خرید بک لینک
قدرت کی مہربانی از: محمد علی حافظ


اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِىْ

تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ

فَاَحْيَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِيْہَا مِنْ كُلِّ دَآبَّۃ وَّ تَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ

وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمآءِ وَ الْاَرْضِ

لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ

یقینا آسمانوں اور زمین کی خلقت میں ، رات اور دن کے آنے جانے میں ، ان کشتیوں میں جو انسانوں کے لیے مفید چیزیں لے کر سمندروں میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جسے اللہ نے آسمانوں سے برسایا، پھر اس پانی سے زمین کو مردہ ہونے کے بعد (دوبارہ) زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانداروں کو پھیلایا، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ ﴿بقرہ۔ ۱۶۴﴾

خداوند متعال نے اپنے کمال اور جمال کے مطابق دنیا کو اس قدر حسین و جمیل خلق کیا ہے کہ اگر انسان اس کی نزاکتوں میں غور کرنے کی ٹھان لے تو اس کو معلوم ہوگا کہ جہان رنگ و بو میں کس قدر قدرت کے کرشمے پنہاں ہیں جو ہر صاحب عقل و خرد کو دعوت فکر و تعقّل دے رہے ہیں۔

عام طور پر لوگ زبان سے تو طبیعت کے دلدادہ ہیں لیکن عمل سے طبیعت کے خطرناک دشمن ہوتے ہیں، کیوںکہ جس طرح طبیعت کی توہین کی جاتی ہے اس سے تو ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں طبیعت نامی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ ایک آلمانی شاعر (گوتہ) کہتا ہے کہ طبیعت کی تحقیر جائز نہیں، اگر ہم ایک لحظے کے لیے اپنے ارد گرد کے ماحول میں غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ہم کس قدر طبیعت کی توہین کر رہے ہیں!

طبیعت کو اس کی اپنی حالت پہ رہنے دیا جائے تو دنیا اس قدر حَسِین ہو جائے گی کہ شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو؛ دنیا میں جہاں جہاں طبیعت کے ساتھ معاملہ ہوا ہے وہاں طبیعت نابود ہو کر رہ گئی ہے، البتہ اس مسئلہ کو ہم بعد میں تفصیل کے ساتھ بیان کرینگے۔

طبیعت:

جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا کہ طبیعت کے ساتھ انسان کا برتاو اچھا رہے تو ہمیشہ اس کی چمک دمک باقی رہے گی، اگر ہم طبیعت پر احسان کرنے کی ٹھان لے تو سب سے بڑا احسان یہی ہوگا کہ ہم اس پر احسان نہ کرئے، کیونکہ ہم ایک ذہنی نقشہ کے تحت جو معمولا ہم طبیعت کو درست سمت دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن طبیعت کے لیے وہی ہماری سوچ نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے اس پر رحم کریں ، در حقیقت طبیعت قدرت کی طرف سے ایک گرانبہا امانت ہے، جسے ہم نے صحیح و سالم نسلِ نو کے حوالے کرنا ہے، اگر ہم اس میں کامیاب نہ رہے تو ہم یقینا اخلاقی طور پر آئندہ آنے والی نسلوں کے مجرم ہونگے۔ ہر نسل پر اس کے آئندہ آنے والی نسلوں کے حقوق ہوتے ہیں اسی طرح موجودہ نسل پر گزشتہ نسلوں کے حقوق ہوتے ہیں، اس کی رعایت کے لیے تگ و دو کرنا ہر عاقل اور سمجھدار انسان پر فرض ہے۔

ہم آئندہ کے مباحث میں طبیعت کے بعض ارکان کے بارے میں مختصر گفتگو کرینگے۔

طبیعت نہایت ہی عمدہ اور ظریف چیزوں پر مشتمل ہے، مثلا دنیا کے افق پر بلندی کے گیت گاتے پہاڑ، بلبل جس کی چمک دمک میں گم ہو جائے ایسے جنگل، حسین وادیوں کے درمیان میں ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا وغیرہ قدرت کی طرف سے طبیعت کے ضمن میں ہمارے حوالے کئے گیے ہیں، اب ہر شخص کو یہ غور کرنا ہو گا کہ ہم اس سے کس طرح درست استفادہ کر سکتے ہیں کہ ہم مستفید بھی ہوں اور اس کو نقصان بھی نہ پہنچے۔

پہاڑوں کی قدر کریں!

پہاڑ دنیا میں انسانی زندگی کی بقائ کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے، قرآن کریم نے آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے اس حقیقت کی طرف انتہائی خوبصورت انداز میں اشارہ کیا ہے، والجبال اوتادا یعنی قرآن نے پہاڑوں کو کیل کے ساتھ تشبیہ دی ہے، اگر کسی محکم چیز سے کہ جس میں کیلیں لگی ہوں اگر کیل نکال لی جائے تو متذبذب ہو جاتی ہے، اسی طرح پہاڑ ہے اگر اس کو زمین سے نکال لی جائے تو زمین کی پختگی ختم ہو جائیگی، اور اس کا باد خزاں اور زلزے کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھنا یقینا اس کی نابودی کا سامان ہے۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

روش تلاوت مقام صبا......

ما را در سایت روش تلاوت مقام صبا... دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 108 تاريخ: چهارشنبه 14 اسفند 1398 ساعت: 21:28

صفحه بندی